مایوسی: شیطان کا ہتھیار، رحمتِ خداوندی سے دوری کا راستہ
زندگی ایک سفر ہے… اور ہر سفر میں کئی راستے ہوتے ہیں۔ کچھ راستے آسان ہوتے ہیں، کچھ پیچیدہ۔ مگر ہر راستے پر اللّٰہ اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے موجود ہوتا ہے۔ وہ صرف نیک اور متقی بندوں کا رب نہیں، بلکہ گناہگاروں کا سب سے بڑا سہارا بھی ہے۔ وہ بار بار اپنے بندوں کو چھوٹے چھوٹے اشارے دیتا ہے، تاکہ وہ لوٹ آئیں… اس کی رحمت کی طرف، اس کی بخشش کی طرف۔
لیکن یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں شیطان اپنے سب سے خطرناک ہتھیار کا استعمال کرتا ہے — مایوسی۔
---
❗ مایوسی: شیطان کا سب سے بڑا وار
مایوسی انسان کے دل کو کمزور کرتی ہے، اسے رب سے دور کرتی ہے، اور آخرکار گناہوں میں اور گہرائی تک لے جاتی ہے۔ اسی لیے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:
> "اور اللّٰہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو، یقیناً اللّٰہ کی رحمت سے صرف کافر ہی نا امید ہوتے ہیں۔"
(سورۃ یوسف: 87)
شیطان انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے:
تو بہت گناہگار ہے، تجھے اللّٰہ کبھی معاف نہیں کرے گا۔
اللّٰہ تجھ سے ناراض ہے۔
تیرا رب تجھ سے دور ہو چکا ہے۔
اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ رب کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ اگر پوری مخلوق بھی گناہ کرے، تب بھی اس کی رحمت میں ذرّہ برابر کمی نہیں آتی۔
---
💧 ایک آنسو، ایک پکار — اور رب کا پیار
بس ایک لمحہ… دل سے نکلا ہوا ایک “یا اللّٰہ”… اور رب اپنے بندے کو اپنی رحمت میں چھپا لیتا ہے۔ گناہوں سے لت پت بندے کے لیے اللّٰہ کی رحمت ایسے لپکتی ہے جیسے ماں اپنے کھوئے ہوئے بچے کو سینے سے لگا لیتی ہے۔
---
📖 قرآنی وعدہ:
> "اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا! اللّٰہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو، یقیناً اللّٰہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، وہی تو بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔"
(سورۃ الزمر: 53)
---
🌧️ واقعہ: حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کا گناہگار
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں قحط پڑ گیا۔ لوگ حضرت موسیٰؑ کے پاس آئے اور کہا: "رب سے دعا کیجئے کہ بارش ہو جائے۔"
حضرت موسیٰؑ نے دعا کی، مگر بارش نہ ہوئی۔
اللّٰہ نے فرمایا: "تمہارے درمیان ایک ایسا بندہ ہے جو چالیس سال سے مسلسل گناہ کر رہا ہے اور مجھے کبھی یاد نہیں کیا۔ جب تک وہ نکلے گا نہیں، بارش نہیں ہو گی۔"
حضرت موسیٰؑ نے اعلان کیا: "وہ شخص باہر نکل جائے۔"
وہ گناہگار دل میں رو پڑا، اللّٰہ سے کہا:
> "یا رب! ساری زندگی تجھے یاد نہ کیا، اب نکلا تو لوگ نفرت کریں گے، میری عزت رہنے دے…"
اسی لمحے، اللّٰہ کی رحمت جوش میں آئی اور بارش برسنے لگی۔
حضرت موسیٰؑ نے پوچھا: "یا اللّٰہ! وہ بندہ باہر نہیں نکلا، پھر بارش کیوں ہوئی؟"
اللّٰہ نے فرمایا:
> "اب وہ میرا دوست بن چکا ہے، اسی کی پکار پر میں نے بارش برسائی ہے۔"
سوچیے… جو بندہ چالیس سال تک گناہ کرتا رہا، اور صرف ایک لمحے کے لیے رب کو دل سے پکارا — وہ بھی اللّٰہ کا محبوب بن گیا۔
---
🕊️ حدیثِ مبارکہ:
> "جب کوئی جوان بندہ توبہ کرتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ آسمان و زمین کے درمیان سے عذاب کو ہٹا دیتا ہے اور اپنی رحمت سے اسے ڈھانپ لیتا ہے۔"
(کنزالعمال)
---
🌿 ہم کیا کریں؟
ہم میں سے کوئی نہ کوئی رب کو دن میں پانچ بار نماز کے ذریعے پکارتا ہے۔ اگر نماز میں غفلت ہے تو دن میں، ہفتے میں، مہینے میں کبھی نہ کبھی تو دل رب کو یاد کرتا ہے۔
بس یہی ایک لمحہ کافی ہے۔
رب کو کوئی پرواہ نہیں کہ ہم گناہ کر کے لوٹے ہیں، وہ کہتا ہے:
> "میرا بندہ آیا ہے، چاہے گناہگار ہے، مگر آیا تو میرے پاس ہے… بس آنا ہی کافی ہے، میں اسے معاف کر دوں گا، اپنی رحمت میں چھپا لوں گا۔"
---
⚔️ شیطان دشمن، رحمن دوست
یاد رکھیں:
شیطان ہمارا دشمن ہے، اور مایوسی اس کا سب سے بڑا ہتھیار۔
رحمن ہمارا رب ہے، اور اس کی رحمت ہر گناہ سے بڑی ہے۔
تو جب بھی گناہ ہو، فوراً اللّٰہ کی طرف لوٹ آئیں، سجدہ کریں، روئیں، معافی مانگیں…
ورنہ شیطان آپ کو اللہ سے مزید دور کرنے کی چال چل جائے گا۔
---
🤲 آخر میں ایک دعا اور نصیحت:
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت کا سایہ عطا فرمائے، مایوسی سے بچائے، شیطان کی ہر چال کو ناکام کرے، اور ہمیں اپنی طرف پلٹنے والے بندوں میں شامل فرما دے۔
"دین اور دنیا ساتھ ساتھ" میں چلتے ہوئے، آئیں ہم رب کے قریب ہونے کے چھوٹے چھوٹے راز سیکھتے رہیں، اور شیطان کو اپنی زندگیوں سے نکالتے رہیں


No comments:
Post a Comment