Saturday, June 7, 2025

(Urdu version)Deen or Duniya sath sath part 1

Deen or Duniya sath sath 

 


کیا آپ بھی دین اور دنیا کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں؟


اگر آپ کا جواب ہاں ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے:

کیا یہ واقعی ممکن ہے؟ اور اگر ہے تو کیسے؟


آئیے، قرآن کی ایک آیت کے ذریعے اس سوال کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:


> "وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا ۖ وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ"


(القصص: 77)


ترجمہ: "اور دنیا میں سے اپنا حصہ نہ بھولو، اور احسان کرو جیسے اللہ نے تم پر احسان کیا۔"




قرآنی رہنمائی: دین اور دنیا کا توازن


اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں یہ سبق دے رہے ہیں کہ دین میں اتنے منہمک نہ ہو جاؤ کہ دنیا سے بالکل کٹ جاؤ۔ بلکہ دین اور دنیا کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کرو، یہی کامیابی کا راستہ ہے۔


نفس و شیطان کا دھوکہ


نفس اور شیطان ہمیں یہ وسوسہ دیتے ہیں کہ اگر ہم دین پر چل پڑے، تو دنیا پیچھے رہ جائے گی، ہم محروم ہو جائیں گے۔ لیکن ذرا غور کریں:


اگر کوئی شخص ایک کار کے متعلق فیصلہ لینا چاہے، تو اُس سے بہتر کون جان سکتا ہے؟ وہ شخص جو اُسے روز دیکھتا ہے، یا وہ جس نے اُسے بنایا ہے؟ عقل کہتی ہے: بنانے والا!


تو جب دنیا کو اللہ نے پیدا کیا ہے، تو اس میں جینے کا صحیح طریقہ کون بہتر جانتا ہے؟ ظاہر ہے، اللہ!


کیا دین پر چل کر دنیا پیچھے رہ سکتی ہے؟


نہیں! بلکہ جو اللہ کے دیے ہوئے راستے پر چلے گا، وہی دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہوگا۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو دنیا کی کامیابی کے لیے بھی تیار کیا، اور اُن کے صحابہؓ جیسے حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت عثمانؓ کو بھی۔


یہی وجہ ہے کہ علم، کردار اور عمل میں وہ ہم سے بہت آگے تھے۔

کیوں؟

کیونکہ ان کا اُستاد ربّ العالمین تھا! جب رب سکھائے، تو کوئی کیسے پیچھے رہ سکتا ہے؟


اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم گمراہ ہیں، اور ہمارا ایمان کمزور ہے۔


جس دن ایمان مضبوط ہو گیا، ہم صرف عمل کی فکر کریں گے، نتیجہ کی نہیں۔ کامیابی کا راستہ خود بخود کھل جائے گا۔



---


دین کا دائرہ کتنا ہے؟


اگر ہم غور کریں، تو دین ہماری زندگی کا صرف 25 فیصد حصہ ہے، باقی ہم خود ہیں۔


دن میں صرف 5 نمازیں فرض ہیں، جنہیں وقت پر ادا کرنا ضروری ہے۔

نہ قرآن کی تلاوت پر کوئی پابندی ہے، نہ ذکر اذکار کے لیے کوئی وقت مقرر ہے۔ جتنا چاہو، جب چاہو، کر لو۔


اللہ نے ہمیں زندگی گزارنے کے لیے آزاد چھوڑا ہے، لیکن اپنی حدود کے اندر۔



---


نماز: عبادت بھی، وقت کی تربیت بھی


نماز صرف عبادت نہیں، وقت کی پابندی بھی سکھاتی ہے۔


دنیا کا ہر موٹیویشنل اسپیکر کہتا ہے کہ وقت کی تنظیم (time management) کامیابی کی کنجی ہے۔

جبکہ ہمارا ربّ 1400 سال پہلے اپنے بندوں کو یہ اصول سکھا چکا ہے۔


نماز میں ایک مسلمان اللہ کی عبادت بھی کرتا ہے، اور وقت کی تنظیم بھی سیکھتا ہے۔



---


اللہ نے چھ دن میں دنیا کیوں بنائی؟


اللہ تو ایک لمحے میں دنیا پیدا کر سکتا تھا، لیکن اس نے قرآن میں فرمایا کہ اس نے دنیا چھ دن میں بنائی۔


کیوں؟


تاکہ بندہ سمجھے:

ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے۔


پودے، پانی، مٹی، سورج—سب اللہ کے حکم سے درخت بنتے ہیں، لیکن بیج بونے والا جانتا ہے:

اگر میں بیج نہ بوؤں، پانی نہ دوں، سورج کی روشنی نہ پہنچے—تو درخت نہیں اگے گا۔


وہ جانتا ہے کہ درخت اللہ ہی بنائے گا، لیکن اُسے اپنا حصہ کا عمل کرنا ہے۔



---


عمل ہمارا، نتیجہ اللہ کا


اگر دین بیج ہے، تو دنیا پانی ہے، اور عمل اس بیج کو اگانے کی کوشش ہے۔


سوچ بدلو، اور نفس کے دھوکے سے نکلو کہ دین اور دنیا الگ الگ ہیں۔

یہی سوچ ہمیں ناکام بناتی ہے۔


بس کوشش ہماری ہے، اور نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں۔



---


نتیجہ: دین اور دنیا ساتھ ساتھ


دین اور دنیا ساتھ چلتے ہیں، اگر ہم توازن کے ساتھ چلیں۔

اللہ نے جو اصول دیے ہیں، وہی دنیا میں کامیابی کے راز بھی ہیں۔


تو آئیے، ربّ پر یقین رکھتے ہوئے، دین و دنیا کو ایک ساتھ لے کر چلیں، تاکہ ہم دونوں جہانوں میں کامیاب ہو سکیں۔


No comments:

Post a Comment

Part 19🌸 "Small Deeds, Big Rewards – How to Get Allah’s Mercy Instantly"

 🌧️ Showers of Mercy: Small Deeds That Connect You to Allah Deen aur Duniya Saath Saath – Part 19 Sometimes, it feels as though there’s a h...